payam e darwaish
Efforts: Zehra Ali

شاہد بلتستانی۔۔۔۔۔۔نوحہ۔۔۔۔بی بی زینبؑ۔۔۔۔۔۲۰۱۴ـ۲۰۱۵    
پیامِ درویش

قتل جو مظلوم ہوا
اس کی فقط ہے یہ خطا
وہ پیروے ولایت ہے
وہ پیروے ولایت ہے
علی’‘ ولی اللہ         علی’‘ ولی اللہ
 علی’‘ ولی اللہ       علی’‘ ولی اللہ
ظالموں کی موت ہے اور آسرا مظلوم کا
                                یا  علی                  علی’‘ ولی اللہ 
                                علی’‘ ولی اللہ         علی’‘ ولی اللہ           
۱۔ ہم عزاداروں کی یہ پہچان ہے زیرِ فلک
گود سے مادر کی لے کر قبر کی آغوش تک
ایک مرکز ایک نقطہ
ایک محور اک صدا
۲۔ جو اسے نافذ کرے وہ قوم زندہ باد ہے
عدلیہ کی جان ہے یہ عدل کی بنیاد ہے
صرف نعرہ ہی نہیں یہ
ہے نظامِ کبریا


۳۔ سب سے پہلے گھر جلا جس کا علیؑ کے نام پر
ہو گٔیٔ وہ خود ضعیفا پسلیاں ٹوٹی مگر
فاطمہؑ کی سسکیوں میں
آخری دَم تک رہا
۴۔ سلطنت کے واسطے تھا کب قیامِ کربلا
اس لیے شہؑ نے کیا تھا احتمامِ کربلا
جانتی تھی ساری دنیا
مانتا کوئ نہ تھا
۵۔ ہچکیاں ماں کی بندھی زینبؑ مصلے پر گری
نام سن کر بابا جاں کا رو دیا ابنِ علیؑ
صبح عاشورا اذاں میں
نوجواں نے جب کہا
۶۔ بے ردائ اور خطبہ الحفیظ و الاماں
فتح کا اعلان سن کر گونجی آوازِ اذاں
برسرِدربار زینبؑ
نے یہ ثابت کر دیا
۷۔ جب بھی غیبت سے تکلم آنے والا آۓ گا
چاہتا ہے جو خدا درویش وہ ہو جاۓ گا
اس گھڑی راجٔ زمیں پر
ہر طرف ہو جاۓ گا
یا علی علی’‘ ولی اللہ
  **********************************