Ghazi ka Salam aya
Efforts: Zehra Ali

بسم اللہ الرحمن الرحیم
شاہد بلتستانی۔۔۔۔۔۔نوحہ ۲۰۱۴۔۔۔۔۔۔بی بی فضہؑ
غازیؑ کا سلام

غازیؑ کا سلام آیا غازیؑ کا سلام آیا
فضہؑ تیری وفا کو غازیؑ کا سلام آیا
زہراؑ کی بیٹیوں کا تُو نے قدم قدم پر
ہے ساتھ جو نبھایا
۱۔ زینبؑ کی زندگی کی کرتی رہی دعایٔں
کھاتی رہی ہے پتھر سہتی رہی جفایٔں
بازار ہو یا گلیاں دربار ہو یا زنداں
شکوہ نہ لب پہ آیا
۲۔ دریا پہ کویٔ لاشہ پہلو بدل رہا تھا
پردیس میں علیؑ کا گھربار جل رہا تھا
زینبؑ کے ساتھ مل کے شعلوں پہ چل کے تو نے
سجادؑ کو بچایا
۳۔ نوکِ سنا سے دیکھا شبیرؑ نے یہ منظر
کربوبلا سے لے کر تا شام ہر قدم پر
ظالم کا تازیانہ اپنی کمر پہ تو نے
زینبؑ سے پہلے کھایا
۴۔ زینبؑ گٔٗی جہاں بھی تو ساتھ میں گیٔ ہے
ساۓ کی طرح ہر پل تو دھوپ میں رہی ہے
قربانیوں کو تیری سب مانتے ہیں بی بی
اپنا ہو یا پرایا
۵۔ بابا کو یاد کر کے روتی تھی جب سکینہؑ
ہر بار اس سے کہتی صابر بہت تھی زہراؑ
مخدومہ کے مصابٔ ہر شب سنا کے تو نے
بچی کا دل بڑھایا
۶۔ چھوڑا نہ ان کا دامن جب تک رہی ہے زندہ
عزت میں مصطفی کی زینب ہو یا سکینہ
تو نے سمجھ کے زہرا ہر بی بی کی لحد پر
شب بھر دیا جلایا
۷۔ بیمارِ کربلا جب تھک کر کہیں پہ بیٹھا
آکر قریب تو نے دے کر اسے دلاسہ
کانٹے کبھی نکالے چھالوں پہ آنسووں کا
مرہم کبھی لگایا
۸۔ پردیسیوں کی طرح تو اب بھی شام میں ہے
گھر جاتی کس طرح سے زینبؑ بھی شام میں ہے
لگتا ہے یہ تکلم بنتِ علیؑ کے سر پر
اب بھی ہے تیرا سایہ
فضہ تیری وفا کو غازیؑ کا سلام آیا
*************************************