Bas raj kare gi karbobala
Efforts: Zehra Ali

شاہد بلتستانی۔۔۔۔۔۔نوحہ۔۔۔۔۔۲۰۱۴ـ۲۰۱۵    
بس راج کرے گی کربوبلا

کلُ یومٍ عاشورا کلُ ارضٍ کربلا
یَا ثَارللہ یَا ثَارللہ
 غیبت کا پردہ اٹھنے دو      جو دیکھ رہے ہیں ہم لوگوں
تم بھی دیکھو گے یاد رکھو   
                     جو روزِازل پھیلایا تھا        ثابت ہوا روزِ عاشورا
یہ کل بھی ہمارا دعویٰ تھا
یہ آج بھی اپنا ہے دعویٰ
ذلت ہے مقدر باطل کا
بس راج کرے گی کرب وبلا
دَور ہو چاہے کویٔ بھی         ہے خدا کا فیصلہ
بس راج کرے گی کربوبلا
۱۔ کربلا کا راج ہی دینِ خدا کا راج ہے
خنجروں کی موت ہے یہ خون کی میراج ہے
نوکِ نیزہ پر علیؑ کے
لال نے ثابت کیا
۲۔ خون بہہ کر بھی عمل ہے ظلم کو موت آ گیٔ
گر گیا دربارِ باطل کربلا ہے آج بھی
اب بھی یہ لہرا کے کہتا
ہے علم عباسؑ کا

۳۔ ظلم کی شہ رگ جو کاٹے خون وہ شمشیر ہے
جبر کو قیدی جو کر لے خون وہ زنجیر ہے
خون کے آنسوں بہا کر
دی یہ عابدؑ نے صدا
۴۔ شام کے دربار میں ہے بنتِ زہراؑ بے ردا
یہ وہ منزل ہے جہاں پر صبر خود رونے لگا
باپ کے لہجے میں خطبہ
دے کے زینبؑ نے کہا
۵۔ ہو کسی قاتل کا خنجر یا ہو دامانِ زمیں
خون کی سرخی تکلم چھپ نہیں سکتی کہیں
ہر گلی میں ہے یہ نعرہ
آج بھی درویش کا
بس راج کرے گی کربوبلا
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھاۓ بہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دباۓ نہ بنے
لبیک یا حسینؑ    لبیک یا حسینؑ
**********************************