Ab mai so jao gi
Efforts: Nabiha Hasan

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اب میں سو جاوں گی
بابا میرے بابا بابا میرے بابا بابا میرے بابا بابا میرے بابا
اب میں سو جاوں گی بابا اب میں سو جاوں گی

باپ کے سر سے لپٹ کر یہ سکینہؑ بولی اب میں سو جاوں گی
بند ہو جائیں گی آنکھیں میری اب میں سو جاوں گی

۱) چلتے ناقے سے جو ظالم نے گرایا تھا مجھے
ایک بی بیؑ نے گلے آکے لگایا تھا مجھے
اپنی آغوش میں ایک بار سولایا تھا
ساتھ بابا کے میرے لائی ہے پھر وہ بی بیؑ

۲) قید یہ ختم ہے زندان کی کچھ دیر کے بعد
پاس اصغرؑ کے چلی جاوں گی کچھ دیر کے بعد
بند ہو جائیں گی آنکھیں میری کچھ دیر کے بعد
پیاسے ہونٹوں سے سُنانیٗں گے جو بابا لوری
۳) سر جھکائے ہوئے بے آس کھڑے ہیں اماں
کربلا والے میرے پاس کھڑے ہیں اماں
یہاں اکبرؑ وہاں عباسؑ کھڑے ہیں اماں
آگئے سب میں جنہیں یاد کیا کرتی تھی

۴)ماں کی نظروں سے سکینہؑ کو چُھپا لو بھیا
ہاں مجھ کو قرآن مصائب تو سُنا دو بھیا
قبلہ روح خاک پہ دُکھیا کو لٹا دو بھیا
تم سے وعدہ رہا دُھراتے ہوئے نادِ علیؑ

۵)پھر نگاہوں میں میری تیروں بھرا ہے لاشہ
ہاتھ پھلائے ہوئے ہیں میرے پیارے بابا
گنجتی ہے وہ علایہ یا بُنیا کی صدا
آج آواز وہی آتی ہے مقتل والی

۶)جب سے دربار میں غربت کا وہ منظر دیکھا
شہ کی تنہائی نے ایک پل مجھے سونے نہ دیا
ختم یہ خوف ہوا آج سے اکبر میرا
کوئی اب بابا کے ہونٹوں پہ نہ مارے گا چھڑی
باپ کے سر سے لپٹ کر یہ سکینہؑ بولی اب میں سو جاوں گی
بند ہو جائیں گی آنکھیں میری اب میں سو جاوں گی