khak e Karbala
Efforts: Nabiha Hasan

بسم اللہ الرحمن الرحیم
خاکِ کربلا
کربلا کربلا کربلا کربلا
میں خاکِ کربلا ہوں رتبہ میرا جُدا ہے بنتِ علیؑ نے مجھ کو چادر بنا لیا ہے

۱۔ کرتے ہیں رشک مجھ پر کوثر کے بھی کنارے
زینبؑ کے سر میں میں نے دو سال ہیں گزارے
میرا ہر ایک ذرا ہر ظلم کا گواہ ہے

۲۔ اکبرؑ جوان قاسمؑ غازیؑ سے چاند تارے
زینؑ العبا نے میری آغوش میں اُتارے
یعنی لہو نبیؐ کا مجھ میں ملا ہوا ہے

۳۔ روتی ہوں یاد کر کے وہ بے کسی کا منظر
مولاؑ چُھپا رہے تھے مجھ میں وہ لاشِ اصغرؑ
اُس دن سے آج تک نہ مجھ کو سکوں ملا ہے



۴۔ ۔شہدائے کربلا کے زخموں کو میں نے چوما
زہراؑ کی بیٹیوں کے قدموں کو میں نے چوما
اس واسطے ہی میری تاسیر میں شفا ہے

۵۔ اکبرؑ کی لاش پر جب شبیرؑ جا رہے تھے
اُٹھتے تھے بیٹھتے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے
منظر وہ اب بھی میری آنکھوں میں پھر رہا ہے

۶۔ اے زایرینِ مولاؑ چلنا یہاں سنبھل کر
قرآن فاطمہؑ کا بکھرا ہوا ہے مجھ پر
نا جانے کس جگہ پر کس کا لہو گرا ہے

۷۔ توقیر تو بھی کر لے آلِ آبا کا ماتم
جو شام میں گئی تھی اُس بےردا کا ماتم
ممنون ماتمی کی مخدومہ فاطمہؑ ہے