جب کربلا کی سمت بڑھا حق کا رہنما
کچھ آگیا خیال جو ماں کے مزار کا
آیا سوۓ بقی وہ ، زہراؑ کا لاڈلا
رخسار رکھ کے سدرِ لحد پر یہ دی صدا
چھٹتاھے اب مدینہ میرے دل کو تھام لو
اماں غریب بیٹے کا آخر سلام لو
اماں تمہارےلال سے چھٹتا ھے آج گھر
اماں تمہارےلال سے برگشتہ ہر نظر
اماں تمہارےلال کا دشمن ھے ہر بشر
اماں تمہارےلال کا ھے آخری سفر
صحرا میں دل کے ٹکڑوں کی بستی بساۓ گا
اماں حسینؑ اب نہ مدینے میں آۓ گا
ماں سے یہ کہہ رہا تھا ابھی ماں کا لاڈلا
آواز آٰئی قبر سے اے میرے مہلقہ
صدقے تیری مصیبت و غربت کے فاطمہؑ
بس اے حسینؑ بس کے ہلا عرشِ کبریہ
تڑپے ابالحسن بھی دلِ بے قرار سے
بیٹا رسولِﷺحق نکل آۓ مزار سے
اے میرے لال تیرے ارادوں کے میں نصار
یہ آخری سفر ھے میرے دل کا اضطراب
کیسے کہوں جو دل پہ گزرتی ھے گل و زار
ھوتا ھے بے چراغ میرے باپ کا مزار
جو تجھ پہ ظلم ہونگے یہ دکھیا اٹھاۓ گی
بیٹا یہ غم نصیب تیرے ساتھ جاۓ گی
آنسو بہاؤنگی تیرے رنج و الم کے ساتھ
آنکھیں بچھاؤنگی تیرے نقشِ قدم کے ساتھ
زہراؑ نڈھال ہوگی ہر اک تازہ غم کے ساتھ
میرا کلیجہ نکلے گا اکبرؑ کے دم کے ساتھ
گھبرا نہ میرے لال ہر اک دکھ بٹاؤنگی
میں تیرے ساتھ لاشۂ اکبرؑ اٹھاؤنگی
جاۓ گا تو جو نہر پہ بھائی کی لاش پر
میں تیرے ساتھ ساتھ چلوں گی برہنہ سر
بیٹا حسینؑ کیا تجھے اس کی نہیں خبر
عباسؑ تیرا بھائی تو میرا دل و جگر
تو لاش لاۓ گا تو صفِ غم بچھاؤنگی
میں گود میں کٹے ھوۓ ہاتھوں کو لاؤنگی
بیٹا حسنؑ کے لال کی خاطریہ کیا ملال
میرے حسنؑ نے تجھ پہ نچھاور کیا وہ لال
فدیے کے واسطے کوئی کرتا ھے یوں ملال
بیٹا میں اس گھڑی بھی رہونگی شریکِ حال
غم ھے قدم اٹھا کے دلِ پاش پاش کے
ٹکڑے چنوں گی رن میں مَیں قاسمؑ کی لاش کے
ھاں میرے لاڈلے میری زینبؑ سے ھوشیار
بے پردہ ھونہ جاۓ کہیں میری پردہ دار
محمل کے ساتھ ساتھ ہوں عباسِؑ زیں وقار
تاکید ھو یہ اکبؑرمحرو کو بار بار
آمادہ ہر قدم پہ رہے پیشواٰئ کو
تکلیف ھو نہ راہ میں زہراؑ کی جائی کو
جا مرقدِ رسولﷺ پہ اے میرے لالہ فام
لازم ھے نانا جان کو بھی آخری سلام
دینا میری طرف سے یہ حسرت بھرا پیام
ممکن نہیں مدینے میں زہراؑ کرے قیام
تم بھی لہو میں اپنا چمن دیکھنے چلو
زینبؑ کے بازوؤں میں رسن دیکھنے چلو
زینبؑ کے بازوؤں میں رسن دیکھنے چلو