Hussain Sub Teri qurbanion ka sadqa hai
Efforts: Syed Nasir Abbas Rizvi



حُسین سب تیری قُربانیوں کا صدقہ ہے
کے آج تک دلِ انسانیت دھڑکتا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

غمِ حُسین میں آنسُو پھر اُس کے بعد اِرم
خرید لو کے یہ سودا بہت ہی سستا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

مُباہلے کی یہ صورت بتا رہی ہے ہمیں
کہ پنجتن کے مُقابل جو آئے جھوٹا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

حُسینیت کو لہو چاہیئے بقا کے لیئے
یزیدیت نے پھر ایک بار سر اُبھارا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

اُسے حُسین سے نسبت نہ دو خُدا کے لیئے
جو مصلِحت سے غمِ شِہ میں کام لیتا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

ہے کیا جوازِ ستم اے زمینِ کرب و بلا
کے تین روز سے مہمان تیرا پیاسا ہے
حُسین سب تیرے ۔۔۔

الٰہی خیر کسی کی نظر نہ لگ جائے
ضعیف باپ کا کڑیل جوان بیٹا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

جسے حُسین نے اٹھارہ سال پالا تھا
زمینِ گرم پہ وہ ایڑیاں رگڑتا ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

خُدارا اس کو تماچے نہ مار اے ظالم
یہ بچی غم کی ستائی ہوئی سکینہ ہے
حُسین سب تیری ۔۔۔

نہ لُوٹ چادرِ زینب نہ چھین سر سے ردا
یہ بنتِ زہرا ہے ظالم یہ بنتِ زہرا ہے
حُسین سب تیری ۔۔