شاہ کہتے تھے نہ تم اشک بہانہ زینبؑ
شکوہءِ رنج کبھی لب پہ نہ لانا زینبؑ
یاد رکھنا مجھے تم شب کی نمازوں میں بہن
کسی لمحے بھی مجھے بھول نہ جانا زینبؑ
بعد میرے جو ستم ڈھائیں ستم گر تم پر
صبر تم فاطمہ زہراؑ کا دکھانا زینبؑ
شام غربت میں لعین خیمے جلائیں جس دم
جلتے خیمے سے بھتیجی کو بچانا زینبؑ
شب میں گر یاد کرے بالی سكینہؑ مجھ کو
میری بچی کو کلیجے سے لگانا زینبؑ
فاتحہ اصغرِؑ بیشیر کا دینا پہلے
شام کی راہوں میں تم پانی جو پانا زینبؑ
راہ کوفہ میں کہا فضہؑ نے رو رو كے سہیل
کیسا آیا ہے یہ غربت کا زمانہ زینبؑ