ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفان ہے
دستک اجل سن کر زندگی ہراساں ہے
ہر طرف اداسی ہے ہر نگاہ ویراں ہے
اور مسجد کوفہ (2) فرطِ غم سے لرزاں ہے
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے
آج گر گیا ہو گا پھر غلاف کعبہ سے
بہہ رہا ہے خون پیہم شاہؑ کے عمامے سے
زخمِ فرق حیدرؑ کا (2) اب خدا نگہباں ہے
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے
زخم اتنا کاری ہے چل نہ پائو گے مولا
گھر بھی جلد جانا ہے آگئی قلیم آقا
در پہ منتظر زینبؑ (2) مضطر و پریشاں ہے
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے
فکرِ کربلا میں گم ہے علیؑ سرِ بستر
غالباََ نگاہوں میں ہے کوئی تہہ خنجر
دیکھ کر سوئے سرورؑ (2) چشم شاہؑ گریاں ہے
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے
ؑاے وفا شکن کوفے بے پدر ہوئی زینب
ؑآج گھر کے آنگن میں ننگے سر ہوئی زینب
کل جو ہونے والا ہے (2) آج سے نمایاں ہے
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے
عترتِ پیمبرؐ پر سازشوں کے گھیرے ہیں
بجھ گیا چراغ آخر ہر طرف اندھیرے ہیں
چند گام پر شاہد (2) کربلا کا میداں ہیں
ماتمی فضائیں ہیں آنسوئوں کا طوفاں ہے