Kon khatoon yeh khaimo se sada deti hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



کون خاتون یہ خیموں سے صدا دیتی ہے
کانپ اٹھتی ہے زمیں عرش ہلا دیتی ہے

کبھی تقدیر عطا کرتی ہے غازیؑ کو علم
کبھی زینبؑ کو علمدار بنا دیتی ہے

ایک بیمار کو کاندھے سے لگا کر زینبؑ 
کبھی اکبرؑ کبھی غازیؑ کو صدا دیتی ہے

اے خدا تیری خدائی کا بھرم رہ جائے
لے تیرے نام پہ زینبؑ یہ ردا دیتی ہے

کتنے پیارے ہیں تیرے عون ؑ و محمدؑ زینبؑ 
انکو تو موت بھی جینے کی دعا دیتی ہے

کربلا کی یہی تعریف سنی ہے کوثر
خاک ہے اور مریضوں کو شفا دیتی ہے