Ho gayeen aah be pidar Zainab
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



ہو گئیں آہ بے پدر زینبؑ 
کم ہیں اب روئیں جس قدر زینبؑ 

روک لے اپنے آنسوؤں کو ذرا
اب تو رونا ہے عمر بھر زینبؑ

ہل رہا ہے مزار روتی ہے
ماں کی تربت پہ کھولے سر زینبؑ

آج ہیں فرش غم پہ اہلِ عزا
باپ کے غم میں نوحہ گر زینبؑ

روک لے اپنے آنسوؤں کو ذرا
اب تو رونا ہے عمر بھر زینبؑ

دیکھنا ایک دن دکھائے گی
شام تجھ کو یہی سحر زینبؑ 

ابتدا ہے ابھی تو کوفے میں
تجھ کو ہونا ہے دربدر زینبؑ 

مجمعِ عام ہوگا گلیوں میں
اور ہوگی برہنہ سر زینبؑ 

کرتے ہیں جس طرح یتیم بسر
اب کرو عمر یوں بسر زینبؑ

رونقیں اٹھ گئی ہیں دنیا کی
جا رہا ہے تیرا پدر زینبؑ

تیرے نالوں سے ہو رہاہے بپا
ایک کہرام فرش پر زینبؑ