پانی نہیں مانگوں گی عمو میرے آ جاؤ
حاجت نہیں اب مجھ کو مشکیزہ بھی چھوڑ آؤ
آمادہ ہیں جانے کو بابا بھی سوئے میداں
وہ جائیں نہ یوں تنہا آ کر اِنہیں سمجھاؤ
کرتی ہیں چچی گریہ منہ ڈھانپ کے آنچل سے
اور فضل بھی روتا ہے آ کر اِسے بہلاؤ
پانی کی کہیں خاطر بازو نہ کٹا دینا
تم کو ہے قسم میری عمو میرے لوٹ آؤ
عباسؑ کی محشر میں اے کاش صدا آئے
پڑھتے ہوئے وہ نوحہ جنت میں انیس آؤ