چلے جو گھر کو تو عابدؑ یہ کام کر كے چلے
سب آنسو قبرِ سكینہؑ كے نام کر كے چلے
یہ اہل شام سے بولے اگر نہ ہو زحمت
دیا جلا دیا کرنا اگر ملے فرصت
بہن كے واسطے یہ اہتمام کر كے چلے
دعا جو کرتی تھی رو رو كے وہ بھی دن آئے
وہ جس كے دِل میں یہ ارمان تھا وطن جائے
اسے حوالہ زندان شام کر كے چلا
سكینہؑ شام كے زندان میں رہ گئی تنہا
چلے اسیر رہا ہو ہو كے سوئے کرب و بلا
یہ معرکہ بھی تو تمام کر كے چلے
وطن بھی جا كے یہ گے شاہ كے غم میں
اب ان کی عمر بسر ہو گی شہہؑ كے ماتم میں
جو زیست اپنی بہتر كے نام کر كے چلے
وہ کیسے بھولیں گے جو لگ گئے جدائی كے داغ
جلائے قبر پہ رو رو كے كے چراغ
دلوں پہ صبر کی خاطر یہ کام کر كے چلے
کوئی ہمارا مارا تو کہا حسینؑ حسینؑ
اذا کا فرش بچھا دو کہا حسینؑ حسینؑ
یہ انتظام بھی چوتھے امام کر كے چلے
ظفر صدا یہی آتی تھی اے میرے بابا
سبھی وطن گئے میں قید میں رہی تنہا
لحد سے اہل حرام جب سلام کر كے چلے