بیادِ سبطِ نبی جو بہائے جاتے ہیں
اُن آنسوؤں سے مقدّر بنائے جاتے ہیں
یقیں نہ ہو تو وہیں کربلا میں چل کر دیکھ
کس اہتمام سے جنگل بسائے جاتے ہیں
یہ نامِ شاہِ دو عالم کا ہی کرم ہے کہ ہم
غمِ جہان سے دامن بچائے جاتے ہیں
عدوئے آل کو ضد ہے کہ ذکرِ آل نہ ہو
کبھی یہ نام بھی دل سے بھلائے جاتے ہیں
ہے ہوتا جن کو عطا حکمِ حضرتِ غازی
وہی تو روزہِ شہہ پر بلائے جاتے ہیں
کمی حسینؑ کی باقی ہے کاظمی ورنہ
یزید آج بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں