میرا سہریاں والا اکبرؑ، میرا سہریاں والا اکبرؑ
زخم دل کے دکھاؤں میں کیسے، تیرا لاشہ اٹھاؤں میں کیسے
اکبرؑ، میرا سہریاں والا اکبرؑ
لاشِ اکبرؑ پہ شاہ جب پہنچے ، دل کو ہاتھوں سے تھام کر بولے
تیری فرقت نے اے علی اکبرؑ ، آگ دل میں میرے لگا دی ہے
آگ دل کی بجھاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
تو ہے کڑیل جوان اے بیٹا ، باپ تیرا ضعیف ہے کتنا
نور آنکھوں کا ہوگیا رخصت ، مجھکو آتا نہیں نظر خیمہ
لیکے خیموں میں جاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
جس نے اٹھارہ سال پالا تھا ، کیسے دیکھے گی وہ تیرا لاشہ
تیری شادی کا تھا جسے ارماں ، کیسے جَھیلے گی وہ تیرا صدمہ
تیری ماں کو بتاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
دیکھ آیا ہے قاصدِ صغراؑ ، راہ تکتی ہے وہ دکھی بہنا
تجھ کو بیمار نے بلایا ہے ، وعدہ صغراؑ کا کیوں بھلا ڈالا
غم یہ دل سے لگاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
بھائی بہنوں کا ہے عجب رشتہ ، جس کا ثانی کہیں نہیں مِلتا
خط یہ صغراؑ نے ہے لکھا اکبرؑ ، ایک دکھیا کی لاج رکھ لینا
مر گیا تُو بتاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
لطف جینے میں اب کہاں اکبرؑ ، دل سے اُٹھتی ہے یہ فُغاں اکبرؑ
صبحِ عاشور دی تھی جو تو نے ، خوں رلائے گی وہ اذاں اکبرؑ
تیری صورت بُھلاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے
ضبطِ غم کا وہ حال ہے بیٹا ، دیکھوں کیسے یہ زخم سینے کا
میں تو پردیس میں اکیلا ہوں ، دیکھ کر زخم کیا کروں بتلا
اِس پہ مرحم لگاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اٹھاؤں میں کیسے
ایسی غربت میں مُںہ نہیں موڑو ، میں ہوں تنہا مجھے نہ یوں چھوڑو
کیا گزرتی ہے باپ کے دل پر ، غمزدہ دل کو یوں نہیں توڑو
اپنی غربت بتاؤں میں کیسے ، تیرا لاشہ اُٹھاؤں میں کیسے