Batao Kya Kare Zainab (s.a)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



بتاؤ کیا کرے زینبؑ

میرے ہمراہ قاسمؑ اور ہمشکلِ پیمبرؑ تھے
میں وہ زینبؑ ہوں جس زینب ؑکے اٹھارہ برادر تھے
مگر جب کربلا سے آی تو بن بھائی ہے خواہر

کہوں کیسے مسلسل غم اٹھانا کتنا مشکل ہے
جہاں میں ہوں وہاں آنسو بہانہ کتنا مشکل ہے
میں آئی ہوں بھرے گھر کے اجڑنے کی خبر لیکر

ہوئی ہے قید جس دن سے بڑے دکھ پائی ہے زینبؑ
نمازیں بھی کھڑے ہوکر نہیں پڑھ پائی ہے زینبؑ
نقاہت سے یہ ممکن تھا کہ گر پڑتی مصلے پر

کروں اظہارِ غم کیوںکر زباں میری لرزتی ہے
اذیت کی کہانی پشت کے زخموں پر لکھی ہے
ہیں ابتک تازیانوں کے نشاں ہیں پشت کے اوپر

ستم کے قید میں ماتم کی مہلت ہی کہاں دی ہے
بڑی مشکل سے میں نے بھائی کی مجلس بپا کی ہے
حرم کے نام کی پابندیاں آنسو بہانے پر

تیری خاطر خدا کے دیں پہ فدا ہو گئی زینبؑ
غموں کے بیچ اک دن میں ضعیفہ ہوگئی زینبؑ
چلا ہے ساتھ میرے ہر قدم سے سلفوں کا لشکر

زمیں پر بے کفن لاشے تو سر نیزوں پر نکلے ہیں
یہ سارے غمزدہ منظر میری آنکھوں سے گزرے ہیں
انہی آنکھوں نے دیکھا ہے گلے پہ بھائی کے خنجر