بغور سن لے زمانہ حسینؑ ایسے تھے
بقا فنا کو بنایا حسینؑ ایسے تھے
چھری کے نیچے وہ خالق سے پیار کی باتیں
اجل کو ہو گیا سکتا حسینؑ ایسے تھے
مخالفت پہ زمانہ تھا اُس طرف لیکن
وہی کیا جو کہا تھا حسینؑ ایسے تھے
سپاہِ شام شجاعت کا لوہا مان گئی
دبے نہ لاکھوں سے تنہا حسینؑ ایسے تھے
کمر کو باندھ کے پیری میں جلتی ریتی سے
اٹھایا بیٹے کا لاشہ حسینؑ ایسے تھے
ہزار شُکر کے سجدے شہید کرتا ہے
بنایا قطرے کو دریا حسینؑ ایسے تھے