Agar na hiteen Janab-e-Zainab(sa)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ ہوتا اللہ کا نام لیوا
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ دین ہوتا نہ ہوتا کلمہ

اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ،حسین ؑ کاکام تھا ادھورا
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ،حسین ؑکی کون تھی شریکہ

حسینؑ کی ہے شریکہ زینبؑ، نہیں ہے کوئی شریک انؑ کا
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تو کون عابدؑ کے ساتھ چلتا

یزید نے اپنے طور پر تو لیا تھا بدرو احد کا بدلہ
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ بجتا دینِ خدا کا ڈنکا

صحابیت کی نقاب چہرے پہ ڈال رکھی تھی اہلِ شر نے
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، دکھائی دیتا نہ اصل چہرہ

یزید اعلانیہ تھا کرتا شراب نوشی ، سیاہ کاری
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تو کون دکھلاتا حق کا رستہ

یزید تھا بھانجا، نواسہ صلیبیوں کا تو اس لیے بھی
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تو ہوتا باطل کا دور دورہ

یزید تکذیب کررہا تھا نزولِ وحی و رسولِ حق کی
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تو کون حق کا لگاتا نعرہ

تھے سارے حرص و ہوس کے بندے یا خوف اور مصلحت کے مارے
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ،کہیں نہ ملتا خدا کا بندہ

تھے ساتھ یوں بھی امامِ دوراںؑ بھی اور اہلِ حرمؑ بھی لیکن
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ ہوتی تسخیرِ شام و کوفہ

علیؑ کی بیٹیؑ نے ہر قدم پر بیاں کیا مقصدِ شہادت
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تعارفِ کربلا نہ ہوتا

تھی چونکہ تشہیراور اسیری بھی شاہؑ کے امتحاں میں شامل
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تو کیسے ہوتا یہ عہد پورا

بنو امیہ مٹا رہے تے تمام آثار ِدین یکسر
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، معاویت پر نقاب رہتا

قلم فروش وضمیر مردہ چلے تھے تاریخ مسخ کرنے
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، شریف کہلاتی نسلِ ہندہ

دُہوا جو بعدِ شہادت انکے ، وہ ہوتا کرب وبلا سے پہلے
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، تباہ ہوتے مدینہ مکہ

یہ جتنے حافظ ہیں اور قاری، ہیں سب پہ خطبات انؑ کے بھاری
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ ہوتا قرآن پڑھنے والا

گِنائیں کیا کیا فضائل انؑ کے یہ کہنا کافی ہے سبطِ جعفر
اگر نہ ہوتیں جنابِ زینبؑ، نہ جانے کیا ہوتا، کیا نہ ہوتا