ہائــــے . . .
ہو كے زنداں سے آزاد بنتِ علیؑ
سوئے کرب وبلا کر كے ماتم چلی
پہنچی جب کربلا فاطمہؑ کی پلی
قبرِ شاہ شھیداں پہ آ کر رکی
گھوڑے کی زین سے جیسے غازیؑ گرے
ایسے بھائی کی تربت پہ زینبؑ گری
اور کہنے لگی
میرے مظلوم بیکس بِھراااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہئے سفر کا کیا میں حال سناؤں
بِن چادر تھی کیا میں بتاؤں
میں شرم سے مر گئی بھائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
بعد تیرے وہ وقت بھی آیا
نیزوں پر تیرے ساتھ ہی بھیا
میری چادر شمر اُٹھائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
رسیوں سے میرے ہاتھ بندھے تھے
ماں بہنوں کے ساتھ لے جا کے
میں شہر با شہر پھرائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
پہنچی جب میں شام شہر میں
کر كے اُجالا ہر اِک گھر میں
ہر شامی عید منائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہر سُو تھا ماحول شرابی
سَر عریاں تھی بہن تمہاری
میں گئی دربار بلائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
غیرت کا سلطان مُھاری
خونِ جگر آنکھوں سے جاری
سجادؑ نہ شام بُھلائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
شمر کی گھڑکیوں سے وہ ڈر گئی
بالی سكینہؑ قید میں مر گئی
اِک کرتے میں دفنائی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہئے قبرِ حسینؑ کو گلے سے لگا گے
زینبؑ اپنا دکھڑا سُنا کے
تیرا چہلم کرنے آئی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہئے جوّاد و رضواں کو بلا لو
مولا اپنا روضہ دکھا دو
فریاد لبوں پر آئی وے
پردیسیا ویرااااا
میں شام دی قیدن آئی وے ، پردیسیا ویرااااا
ہوئی سال کے بعد رہائی وے ، پردیسیا ویرااااا
------------[پنجابی]----------------
ہائــــے . . .
ہو كے زنداں سے آزاد بنتِ علیؑ
سوئے کرب وبلا کر كے ماتم چلی
پہنچی جب کربلا فاطمہؑ کی پلی
قبرِ شاہ شھیداں پہ آ کر رکی
گھوڑے کی زین سے جیسے غازیؑ گرے
ایسے بھائی کی تربت پہ زینبؑ گری
اور کہنے لگی
میرے مظلوم بیکس بِھرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بھینڑ دی تَھئی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
سفراں دا کیا حال سُناواں
وچ پردیساں باج بِھراواں
ہائے رُل گئی زہراؑ جائے وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
بعد تیرے او ویلا آیا
نیزے دے نال امبڑی جایا
میڈی چادر شمر لہائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
رسیاں دے وچ بندھیاں بانہواں
سنگ بھرجائیاں باج رداواں
میں شہر با شہر پھرائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
ہائے پہنچی جد میں شام وِچال اے
ہائے ہر گھر گھر دے وچ کر كے اُجالے
اِناں شامیاں عید منائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
ہر سُو تھا ماحول شرابی
سَر ننگے تھی بہن تمہاری
میں گئی دربار بلائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
غیرت والا پتر مُحاری
خونِ جگر انکھیاں چوں جاری
سجادؑ نے شام نبھائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
ہائے شمر دیاں جھڑکاں تو ڈر گئی
وچ زندان سكینہؑ مر گئی
ہک چولے وچ دفنائی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا
ہائے قبر حسین کوں گل نال لا كے
سینڑ جوّاد و سرور آکھے
تیرا چہلم کرنڑ میں آئی وے
پردیسیا ویرا
میں شام دی قیدنڑ آئی وے
پردیسیا ویرا
ہائے بہن دی تھی اے رہائی وے
پردیسیا ویرا