یژرب میں حشر ہے بَپا باقرؑ گزر گئے
ماتم بَپا ہے باقرؑ گزر گئے
بیوہ كے بین ہیں میرے والی نہ جائے
جعفرؑ پہ ٹوٹا سانحہ باقرؑ گزر گئے
حضرت کو زہر زین میں ھشام نے دیا
ہائے ٹکڑے جگر ہو گیا باقرؑ گزر گئے
موجود کربلا میں تھے باقرؑ حسینیو
دِل میں غم و الم لئے باقرؑ گزر گئے
کچھ نہ رحم آپ پہ ھشام نے کیا
کیسا ستم یہ ڈھا دیا باقرؑ گزر گئے
جلتے ہوئے خیام كے شعلوں میں جو گھرے
شامِ غریباں غل اٹھا باقرؑ گزر گئے
رو رو كے حال بیٹو کا ہوتا ہے غیر اب
سایہ پدر کا اٹھ گیا باقرؑ گزر گئے
جعفرؑ كے بین تھے یہی مولاؑ کی لاش پر
بیٹا یتیم ہو گیا باقرؑ گزر گئے
سارے جہاں میں ہوتا ہے ماتم امامؑ کا
حیدر نے نوحہ لکھ دیا باقرؑ گزر گئے