مولاؑ اٹھو كے مسجد کوفہ اداس ہے
کیسا یہ دن ہے آج كے دُنیا اداس ہے
حسنینؑ بے قرار ہیں زینبؑ ہے مضطرب
روحِ جنابِ فاطمہ زہراؑ اداس ہے
محتاج و بے نوا و یتیموں کے دادرس
دیکھو كے ہر یتیم کا چہرہ اداس ہے
مشکل كشاء امیرِ عرب بھی شعائیں تھیں
تم کیا اُداس ہو كہ زمانہ اداس ہے
کس کو پکارے کیسے اُمیدِ شفاء کریں
بیمار بےنوائے مسیحا اداس ہے
ماتم كے ہیں لباس میں اللہ کا حرام
غم میں تمھارے خانہءِ کعبہ اداس ہے
للہ کربلا کا تصور نہ کیجئے
دریا ہے علقمہ کا نظارہ اداس ہے
آئی ہے سحر خون کی سرخی لیے ہوے
خاک اُڑ رہی ہے خانہءِ کعبہ اداس ہے
جبریل کی فغان ہے علیؑ قتل ہو گئے
لرزاں زمین ہے عرش معلیٰ اداس ہے
بے کل ہے کائنات ہوائیں ہیں منتشر
لرزاں زمین جنگل و صحرا اداس ہے
ہر سمت چھا گئیں ہیں قمر یہ اُداسیاں
ٹوٹا ہے بابِ علم مدینہ اداس ہے