ماتم زمین پہ ہوتا ہے اور عرش پر بکا
تابوت مرتضیٰؑ کو اُٹھاتے ہیں انبیاء
چہرے پہ خون بہتا ہے سَر ہے شگافتہ
دنیا سے اِس طرح میرا مشکل كشاء چلا
وہ جس کو دیکھنا بھی عبادت کہا گیا
ڈوبا ہوا ہے خوں میں وہ چہرہ امامؑ کا
امت یتیم ہو گئی بے آسرا حیات
جو سب كے بوجھ اٹھاتا تھا دنیا سے اٹھ گیا
جن و ملك رسول و بشر سارے آ گئے
کس شان سے اٹھا تھا جنازہ امام کا
عباس کوؑ سپرد کیا ہے حسینؑ كے
جاتے ہوئے علیؑ کی ہے آنکھوں میں کربلا
زینب کہاں ہے پوچھتے ہیں غش میں مرتضیٰؑ
آنکھیں ہیں بند سامنے منظر ہے شام کا
مولاؑ ملا ہے آپ کو تابوت اور کفن
بے گور و بے کفن رہا لاشہ حسینؑ کا
بیٹا اسی کا پیاسا رہا تِین روز تک
قاتل کو اپنے جس نے كہ شربت عطا کیا
مشکل میں سب کی جان بچاتا تھا جو قمر
سجدے میں ظالموں نے اسے قتل کر دیا