یا زھراؑ یا زھراؑ
یا زھراؑ یا زھراؑ
آدھی رات کی تاریکی میں لیکر چشمِ تر
میرے مولاؑ آ جاتے ہے قبرِ زھراؑ پر
ہائے کربِ امامِ زمانہ قبرِ زھراؑ پر
یا زھراؑ یا زھراؑ
سَر کو جُھکا کر قبر پہ آ کر روتے رہتے ہیں
چپکے چپکے جانے کیا کیا مولاؑ کہتے ہیں
ثُبت الیا کی ہیں صدائیں مرقد كے اندر
یا زھراؑ یا زھراؑ
جیسے بعدِ عصر ہوا کیا لاشِ پسر کا حال
ماں کی مرقد کو کر ڈالا ظالم نے پامال
دور تلک بس ریت ہے پھیلی مٹی اور کنکر
یا زھراؑ یا زھراؑ
ایک شکستہ پہلو کی آواز میں کیا ہے درد
عرشِ الہیٰ کانپ رہا ہے چہرہءِ دیں ہے زَرد
اشک میں ڈوبی ہوئی مِٹی ہے روتے ہیں پتھر
یا زھراؑ یا زھراؑ
غیبت کے پردے میں ہوں محرومی تو دیکھیں
دادی اپنے پوتے کی مظلومی تو دیکھیں
دادی میری آنکھوں میں ہے شام کا ہر منظر
یا زھراؑ یا زھراؑ
رات کی اَوس ہے دن کی دھوپ کا ہے آزار یہاں
قبر كے اوپر سائے کا بھی کوئی نہیں امکاں
جیسے زینبؑ اور کلثومؑ كے سَر پہ نہیں چادر
یا زھراؑ یا زھراؑ
بی بی فرماتی ہے بابا آپ کے بعد مجھ پے وہ مصیبتیں آئیں
جو دنوں پر پڑتیں تو تاریک راتوں میں بدل جاتے
جو پہاڑوں پہ پڑھتیں تو پہاڑ سرمے میں بدل جاتے
آج بھی محل شاہ كے روشن ہے
مگر تیری قبرِ مطہر پر نہ کوئی سائبان ہے نہ کوئی دیا جلتا ہے
عجب نہیں كہ قبرِ پیغمبرؐ سے آواز آتی ہو
بیٹی تیری قبر پہ ابتک کوئی نہیں سایہ
جیسے تھا بے گور و کفن کربل میں تیرا جایا
کہتی ہے مٹی میں اٹی یہ قبرِ پیغمبر
یا زھراؑ یا زھراؑ
عرشِ الہیٰ لرزاں ہے اور تارے روتے ہیں
دادی آپکی مظلومی پہ سارے روتے ہیں
گریہ کناں ہیں سارے امام اور سارے پیغمبر
یا زھراؑ یا زھراؑ
مرقد سے آتی ہے صدا یہ بنتِ پیمبرؐ کی
بیٹا تیرے کرب سے واقف ہے تیــری دادی
محسنؑ كے بھی خون کا بدلا واجب ہے تجھ پر
یا زھراؑ یا زھراؑ
دادی آپ کے پاس ہے اب بھی کرتا اصغرؑ کا
دادی مجھکو بس لینا ہے محسنؑ کا بدلا
آپ دعا دیں کھل جائے بس غیبت کا یہ دَر
یا زھراؑ یا زھراؑ
ہاتھ میں ہے اِس وقت بھی میرے حیدرؑ کی تلوار
میں تو ہر اک صورت میں ہوں آنے کو تیار
روکے قمر مولاؑ نے کہا تیار نہیں لشکر
یا زھراؑ یا زھراؑ