یا علی یا ایلیا یا بو الحسن یا بوتراب
بھائی میرا قتل ہوا آئیے بابا شِتاب
بو الحسن یا بوتراب
لو پھیل گیا شامِ غریباں کا اندھیرا
اسباب لُٹا جل گیا سادات کا خیمہ
بے گورو کفن رَن میں ہے شبیر کا لاشہ
سب مارے گئے دشت میں زینب ہوئی تنہا
اصغرِ بے شیر کو رونے لگی اُمِ رباب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
ہائے وہ بہن جس کے ہوں اٹھارہ برادر
اور باپ بھی جس بیٹی کا ہو فاتح خیبر
نرغے میں لعینوں کے وہ مظلوم کھُلے سر
کیسے نہ کرے نوحہ وہ پھر خاک اُڑا کر
نوحہ کُناں خُلد میں ہے روحِ رسالتِ مآب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
ماری گئی اک روز میں سب فوجِ حسینی
ہر لمحہ مصیبت تھی نئی ہم نے جو دیکھی
بے مونس و غمخوار تھے یاور نہ تھا کوئی
تھا عصر کا ہنگام کے آواز یہ گونجی
مارا گیا حیدر کا پِسر دشت میں بے آب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
اب بالی سکینہ کو ستاتے ہیں ستمگر
کچھ کر نہیں سکتی کہ رسن بستہ ہے مادر
پابندِ سلاسل ہے میرا عابدِ مضطر
زینب کے کلیجے پہ چلے ظلم کے خنجر
کیا کروں بابا میرے میں دیجیئے کچھ تو جواب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
کٹ کے جو گرے خاک پہ عباس کے بازو
رُکتے ہی نہ تھے آنکھ میں شبیر کے آنسو
میں خیمے میں روتی تھی وہ روتے تھے لب جُو
ماتم ہی تھا ماتم ہی تھا ماتم ہی تھا ہر سُو
کہتے تھے شبیر کے یا لیتنی کنتُ تراب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
اکبر کا جگر ہوگیا برچھی سے دو پارہ
اور اصغرِ معصوم بھی مارا گیا پیاسا
ٹکڑے ہوا میدان میں نوشاہ کا لاشہ
مارا گیا وہ شیر جو تھا سب کا سہارا
عون و محمد کا ملا خاک میں کیسا شباب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
اصغر کو لگا تیر میں روتی رہی بابا
مارے گئے شبیر میں روتی رہی بابا
ہنستے رہے بے پیر میں روتی رہی بابا
شہہ پہ چلی شمشیر میں روتی رہی بابا
دیکھیئے پردیس میں قسمت ہوئی میری خراب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔
ریحان بہت ہو چکی اب اشک فشانی
زینب پہ مصیبت کی یہ پُردرد کہانی
سب اہلِ عزا سُن چکے سرور کی زبانی
تھمتی ہی نہیں آنکھوں سے اشکوں کی روانی
کون سُنے قصئہ غم کس میں رہی اتنی تاب
بو الحسن یا بوتراب
یا علی یا ایلیا ۔۔۔