تیرا گھر ہو گیا ویرانہ ہائے نانا فریاد ہے
بھائی کو مہماں بلا کر ہئے ہئے شمرِ ستمگر
حلق پہ پھیرا ہے خنجر ہئے نانا فریاد ہے
بالی سكینہؑ روتی تھی باپ كے غم میں نہ سوتی تھی
مر گئی زندان میں گھٹ کر ہئے نانا فریاد ہے
بالی سكینہؑ کی میت عابدِ مضطرؑ کی غربت
سوچتی ہوں پھٹتا ہے جگر ہئے نانا فریاد ہے
کٹ گئے سقہؑ كے بازو بہہ گیا ارمانوں کا لہو
ہو گئے ہَم سب بن چادر ہئے نانا فریاد ہے
مارے گئے قاسمؑ اکبرؑ عونؑ و محمدؑ اور اصغرؑ
اجڑ گیا سب گھر کا گھر ہئے نانا فریاد ہے
آئی ہوں بھائی کو کھو کر ہئے نانا فریاد ہے
لُوٹ لیا امّت نے گھر ہئے نانا فریاد ہے