اصغرؑ ہائے اصغرؑ
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اے شاہ دیں کے دلبر، اے روح قلب مادر
اے تشنہ کام مضطر، اے بے زبان اصغر
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
تشنہ لبی پہ تیری، گریہ ہے یہ خدائی
مظلومیت نے تیری، انسانیت جگائی
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
سوکھے لبوں پہ تو نے، جس دم زباں پھرائی
سر کو جھکا کے رویا، دشمن کا ہر سپاہی
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
کیا منزلت ہے تیری، شبیرؑ خستہ تن نے
دفنا کے تیرا لاشہ، فرمایا پرمہن نے
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
شکوہ نہ کرنا اصغرؑ، پانی نہیں میسر
آنسوں بہا کے میں نے، تربت کو کر دیا تر
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
یاد پسر جب آتی، تو کوکھ اجڑی مادر
راتوں کو اٹھ کر اکثر، کہتی تھی در پہ اگر
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ
تاریخ کربلا کو، پڑھ کر انیس دیکھو
قاتل بھی سر جھکائے، کہتے ملیں گے تم کو
اے چھ مہینے والے تجھ کو میرا سلام
اصغرؑ ہائے اصغرؑ