تیری زہراؑ کو زمانے نے ستایا بابا
تیرے فرمان کو لوگوں نے بھلایا بابا
بعد تیرے نہ دیا چین سے رہنے مجھ کو
جو ستم میں نے سہے کیسے سُناؤں تجھ کو
نہ دیا حق بھی مجھے، دَر بھی گرایا بابا
تم کو دربار کی روداد سناؤں کیسے
جیسے چنتا ہے کوئی اپنے جگر كے ٹکڑے
ایسے تحریر كے ٹکڑوں کو اٹھایا بابا
جب تصور میں نظر شامِ غریباں پہ گئی
جلتے خیموں سے سكینہؑ کی صدا آنے لگی
اپنا بچپن مجھے روتا نظر آیا بابا
کیسا مجھ پر ہے ستم ڈھایا یہ آ کر دیکھو
میں ہوں زخمی میرا محسنؑ نہ بچا ہے دیکھو
میرے حیدرؑ کو بھی قیدی ہے بنایا بابا
کیسے یہ دنیا بھولی ہے وہ منظر محسن
دیکھ کر زہراؑ کو روتے تھے حسنینؑ
جب حیدرؑ نے جنازہ تھا اٹھایا بابا
پوچھو بابا حق زہراؑ کو دیا نہ کس نے
اٹھایا کس نے
شبرؑ و شبیر کو چادر میں چھپایا بابا