بےگناہ مارا گیا رسول دوسرا وا حسن سبز قبا
کلمہ گویوں نے کیا خوب کیا وعدہ وفا
وا حسن سبز قبا
خوں اگلتے ہوئے بھائی کو بہن نے دیکھا
یوں تڑپ کر یہ کہا
تیری غربت پہ اے بھائی تیری زینبؑ ہو فدا
ماں کے غم سے ابھی آزاد کہاں تھی زینبؑ
ہو گیا کیسا غضب
بابا زندہ نہ رہا بھائی سوئے خلد چلا
وا حسنِؑ سبز قبا
گھر سے اِک بار جنازہ جو نکل جاتا ہے
بھر وہ کب آتا ہے
یہ وہ تابوت ہے جو لوٹ کے پھر گھر کوچلا
وا حسنِؑ سبز قبا
شہہؑ نے اُس وقت جو غازی کو نہ روکا ہوتا
حشر ہو جاتا بپا
چھوڑ آتے نہ جنازے کو اٹھا کر مولاؑ
وا حسنِؑ سبز قبا
بھائی کی لاش پہ رو رو کہہ یہ زینبؑ نے کہا
آرزو تھی بھیا ( )
کاش عبداللہؑ و قاسمؑ کو بناتے دولھا
وا حسنِؑ سبز قبا
ایک تو باغ فدک اور خلافت چھینی
اس پے کی بے دینی
پہلو میں نانا کے بھی دفن نہیں ہونے دیا
وا حسن سبز قبا
تیرے تابوت پہ کس واسطے مارے گئے تیر
آئے مسلمانوں کے پیر
کلمہ پڑھتے نہ تھے جد کا تیرے اہلِ جفا
وا حسن سبز قبا
خلد سے آئی سدا بیٹا حسنؑ جلدی آ
تاکہ دوں تجھ کو دکھا
تیر مارے تجھے چھلنی ہے کلیجہ میرا
وا حسن سبز قبا
وقت رحلت تیرے نانا نے وصیت کی تھی
اُس پہ تاکید یہ کی
اہلِ بیتؑ اور کلام اللہ بس میرے سوا
وا حسن سبز قبا