واویلا صد واویلا
واویلا صد واویلا
ہئے پیاسا ذبحہ کر دیا
لختے جگرے سیدہؑ
ہئے کوفیوں نے کی دغا
سید مارا بیگناہ
ہئے خالی آیا ذوالجناح
خو میں نہایا ہوا
ہئے غازیؑ بھی مارا گیا
پانی نہ خیمے آ سکا
ہئے اکبرؑ کے مارا نیزہ
برچــھی نے چِھیدا سینا
ہئے قاسمؑ پامالِ جفا
لاشہ صحرا میں بکھرا
ہئے اصغرؑ کا چھیدا گلا
تیرِ ستم مارا گیا
ہئے چادر چھینی کربلا
زینبؑ ہو گئی بے ردا
ہئے کنبہ سب مارا گیا
ؑیا جنابِ سیدہ
---------------------------------
واویلا واویلا، واویلا صد واویلا
یہ ہدایتوں کی جزا ملی
---------------------------------
تو ہے شہیدِ کربلا
تو نے شہیدِ کربلا
اسلام زندہ کر دیا
تو ہے شہیدِ کربلا
تو نے برائے کبریا
اپنا بھرا گھر دے دیا
اصغرؑ دیا اکبرؑ دیا
اکبرؑ دیا اصغرؑ دیا
سقہؑ دیا قاسمؑ دیا
جب پاس کچھ نہ رہ گیا
سر اپنا سجدے میں رکھا
سبحانَ ربّی کہہ دیا
جاں کو سپردِ رب کیا
قربان اپنا گھر کیا
اسلام زندہ ہو گیا
تو ہے شہیدِ کربلا
حسینؑ امام حسینؑ، حیدرؑ
حسینؑ امام حسینؑ، حیدرؑ
----------------------------
یہ ہدایتوں کی جزا ملی
یہ عنایتوں کا صلہ دیا
وہ چراغ قبرِ نبیؐ کا تھا
جسے کربلا میں بجھا دیا
یہ حسینؑ تیرا ہی کام تھا
کہ سب اپنے لال فدا کئے
تجھے اِن ستاروں نے ڈوب کر
شبِ غم کا چاند بنا دیا
یہ علیؑ کے لال کی ہمتیں
یہ سِنان و تیر کی دعوتیں
کہیں نوجوان کا جگر دیا
کہیں بے زبان کا گلا دیا
کہو دل کہاں سے وہ لائیں گے
جو حسینؑ خیمے میں جائیں گے
جسے ماں کی گود سے لائے تھے
اُسے زیرِ خاک سُلا دیا
نہ حسینؑ گھوڑے پہ تھم سکے
کہ صدا اذاں کی بلند تھی
وہ نمازِِ عصر کا وقت تھا
کہ زمیں پہ خود کو گرا دیا
چمن آپ اپنا لُٹا گئے
کہ بہارِ دینِ خدا رہے
نہ جما جو رنگ بہار کا
تو لہو بھی اپنا ملا دیا