وا ویلا صد وا ویلا
کہتے ہیں یہی سب اہل عزا
زہراؑ کا چمن برباد ہوا
وا ویلا صد وا ویلا
مہمان بلا کر سید کو
اِس طرح ستایا امت نے
دریا سے ہٹا کر خیموں کو
پانی پہ لگایا ہے پہرہ
وا ویلا صد وا ویلا
وہ چاند نبی كے گھر کا تھا
کہتے تھے جسے ہمشکلِ نبی
وہ چند گیا بینائی گئی
اس گھر سے اجالا روٹھ گیا
وا ویلا صد وا ویلا
تصویر حسن کا اک بیٹا
فرواؑ كے کلیجے کا ٹُکْڑا
وہ دولہا بنا اور قتل ہوا
زینبؑ نے کہا اے میرے خدا
وا ویلا صد وا ویلا
وہ جس كے علم سے پیاسوں کو
عاشور تلک اِک آس رہی
جب قتل ہوا سقائے حرام
تھی خشک زبانوں پر یہ بکا
وا ویلا صد وا ویلا
دو ہی تو پسر تھے زینبؑ كے
بھائی پہ جنہیں قربان کیا
جب عونؑ و محمدؑ مارے گئے
زینبؑ نے نہیں سرورؑ نے کہا
وا ویلا صد وا ویلا
جس شہزادی کو سورج نے
سر ننگے نہیں دیکھا تھا کبھی
اُس زینبؑ کو دکھلایا گیا
بازارِ ستم دربارِ جفا
وا ویلا صد وا ویلا
قیدی کی طرح سے زینبؑ کو
گلیوں میں لعین لے جاتے تھے
بیمار مسافر بے بس تھا
بس کرتا رہا ہر گام بُکا
وا ویلا صد وا ویلا
مظہر وہ قیامت کا منظر
لفظوں میں بیاں کر سکتا نہیں
آنکھوں سے لہو برساتا ہوا
کانٹوں پہ امامِ وقتؑ چلا
وا ویلا صد وا ویلا