بھیا مجھے مقتل سے صدا کیوں نہیں دیتے
بچ جاؤں یا جل جاؤں بتا کیوں نہیں دیتے
غربت میں سہی پھر بھی ہے کونیں کے ملکہ
پھولوں سے دروبام، سجا کیوں نہیں دیتے
عابد :as: ، سردربار سہی کب سے کھڑی ہے
تھک جائے گی زینب سلام اللہ علیہا کو بٹھا کیوں نہیں دیتے
سر ننگے، بندھے ہاتھ، اتر آئی ہے زینب سلام اللہ علیہا
بازار سے لوگوں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے
کچھ دیر سہی پھر بھی یہ رک جائے گی بارش
نیزہ پہ ہی قرآن سنا کیوں نہیں دیتے
کرتا ہے صفی عرض کہ اے ثانیء زہرا سلام اللہ علیہا
نوحے یہ تیرے عرش ہلا کیوں نہیں دیتے