Bhayya mujhe maqtal se sada kyun nahi detay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بھیا مجھے مقتل سے صدا کیوں نہیں دیتے
بچ جاؤں یا جل جاؤں بتا کیوں نہیں دیتے

غربت میں سہی پھر بھی ہے کونیں کے ملکہ
پھولوں سے دروبام، سجا کیوں نہیں دیتے

عابد :as: ، سردربار سہی کب سے کھڑی ہے
تھک جائے گی زینب سلام اللہ علیہا کو بٹھا کیوں نہیں دیتے

سر ننگے، بندھے ہاتھ، اتر آئی ہے زینب سلام اللہ علیہا
بازار سے لوگوں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے

کچھ دیر سہی پھر بھی یہ رک جائے گی بارش
نیزہ پہ ہی قرآن سنا کیوں نہیں دیتے

کرتا ہے صفی عرض کہ اے ثانیء زہرا سلام اللہ علیہا
نوحے یہ تیرے عرش ہلا کیوں نہیں ‌دیتے​