یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
یا حسینؑ کشتہ تیغِ جفا
یا حسینؑ سبطِ رسولِ خدا
ہائے سر بر سرِ نیزہ تیرا
دَر بدر لے گئے بانیءِ جفا
بے دفن لاشہءِ بے سر ہے غریب زہراؑ
ہے بدن گھوڑوں سے پامال تیرا وا ویلا
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
نینوا، نینوا دشتِ بلا کربلا
کیوں ہوئی جور و جفا کربلا
کیا تھی پیاسوں کی خطا کربلا
کچھ تو کہہ کچھ تو بتا کربلا
اپنے مہمان پہ یہ بندشِ پانی کیونکر
جس کی مادر کو ملا مہر میں حوضِ کوثر
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
ایک مقتل میں بہتر لاشے
بھانجے بیٹے بھتیجے پیاسے
پارا پارا ہوئے سارے ایسے
ایک قرآن كے پارے جیسے
خاک اُڑ اُڑ کے شہیدوں کا کفن بنتی تھی
خلد سے فاطمہ زہراؑ کا صدا آتی تھی
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
اِک طرف بہتا تھا دریائے فرات
اِک طرف پیاسوں پہ مشکل تھی حیات
بعدِ شبیرؑ اسیروں کی وہ رات
کیسے گزری تنِ صد پاش كے ساتھ
کوئی بھائی کو کوئی روتی تھی بیٹںوں كے لیے
بے کسی وہ تھی كے آنسو نہ تھے آنکھوں كے لیے
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
تشنہ لب بے وطن و بے خطا
سر تھا سجدے میں تہہِ تیغ گلا
ایک اِک زخم سے خوں بہتا تھا
نوحہ کرتی تھیں جناب زہراؑ
خیمے كے دَر پہ بہن کرتی تھی فریاد و فغاں
جیسے صحرا میں کسی شخص کی آوازِ اذاں
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
مر گیا شیرِ علمدارِ جری
چل گئی قاسمِ مہرو پہ چھری
مر گیا دشت میں ہمشکلِ نبیؑ
کھا كے سینے پہ ستم کی برچھی
گھر کا گھر زینبِؑ مظلوم کا برباد ہوا
لٹ گیا شہرِ نبیؐ کربلا آباد ہوا
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
کٹ گئے بازوئے سقائے حرم
چھد گئی مشک ہوا ٹھنڈا علم
خیمہءِ شہہؑ میں تھا برپا ماتم
نوحہ کرتے تھے سبھی اہلِ حرم
اے علمدار اٹھو چھنتی ہے زینبؑ کی ردا
کوئی باقی نہ رہا عابدِؑ مضطر كے سوا
فاطمہ زہراؑ یہ دیتی ہیں دعا
تا قیامت رہے یہ فرشِ عزا
یونہی آتی رہے ماتم کی صدا
ہو ہر اِک لب پہ حسینی نوحہ
حشر میں شہہؑ كے عزاداروں سے پُرسہ لوں گی
میں عزاداروں کو جنت کی بشارت دوں گی
یا حسینؑ یا حسینؑ یا حسینؑ
کر كے ریحان میں لکــھوں نوحہ
غم سے سینہ ہے میرا کرب و بلا
آنکھ سے بہتا ہے خوں کا دریا
کرتے ہیں قلب و جگر بھی گریا
ہائے وہ بیکس و مظلوم وہ بے یار حسینؑ
روئیں گے حشر تلک تجھ کو عزادار حسینؑ