ؑنوحہ زینبؑ کا تھا اے گیسوئوں والے اکبر
کس طرح غم تیرا مادر یہ اٹھا لے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
کیا خبر تھی تجھے ظالم کی نظر کھائے گی
تیرے سینے میں انی برچھی کی دھر جائے گی
چاند سی شکل تیری خاک میں مل جائے گی
موت بھی آئے گی بالی پہ تو شرمائے گی
ؑدور نظروں سے ہوئے گھر کے اُجالے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
آئے تھے ساتھ مدینے سے پھوپھی کے بیٹا
گِھر کے اِس دشت میں اب ساتھ تمہارا چھوٹا
باپ مجبور ہے کہ آنکھوں تارا ٹوٹا
ہائے پردیس میں اعداء نے بھرا گھر لوٹا
ؑماں کھڑی روتی ہے سینے سے لگائے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
اپنی تقدیر کا تیری یہ تماشہ دیکھا
باپ کے ہاتھوں پہ بن جائے کا لاشہ دیکھا
پھول قسمت میں نہ تھے خون کا سہرا دیکھا
ماں کی آنکھوں سے وہ بہتا ہوا دریا دیکھا
ؑتیری غمخوار کو اب کون سنبھائے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
کوئی عباسؑ کو دریا سے بلا لے جا کر
ؑہو خبر کیسے انہیں مر گئے رن میں اکبر
ؑکیوں نہیں لیتے خبر عمو کی عونؑ و جعفر
باپ سے اٹھے گی کس طرح سے لاشِ پسر
ؑکون باقی ہے جو اب شہہؑ کو سنبھالے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
خیمے جلتے ہیں نہیں کوئی سہارا بیٹا
ڈھل چکی شام ہوا شب کا اندھیرا بیٹا
داد رس کوئی نہیں غم میں ہمارا بیٹا
تیری فرقت میں نہیں جینا گوارا بیٹا
ؑسر سے چھنتی ہے ردا آکے بچا لے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا
ہاتفِ غیبی کی ناگاہ صدا پہ آئی
وقت تھا عصر کا جب شہہؑ نے شہادت پائی
کیسے انجم یہ قیامت کی گھڑی تھی آئی
لاش پہ رونے کو بیٹا تھا نہ کوئی بھائی
ؑکون بچوں کو بھلا آکے سنبھالے اکبر
نوحہ زینبؑ کا تھا