نوحہ کنا ہے زینبِؑ مضطر علیؑ كے بعد
کہرام ہے مچا ہوا گھر گھر علیؑ كے بعد
مہراب غمزدہ ہے نمازی کدھر گیا
ویران ہے رسولؐ کا ممبر علیؑ كے بعد
بیوایئں اور یتیم رہے انتظار میں
کتنے غریب بیٹھے تھے دَر پر علیؑ كے بعد
کس دِل سے اب حسینؑ پڑھیں گے نماز عید
مسجد میں جا كے روئیں گے شبرؑ علیؑ كے بعد
كلثومؑ اپنے بابا کو جی بھر كے دیکھ لو
سحری نہ ایسی ہو گی میسر علیؑ كے بعد
سب رونقیں ہی ہو گئیں رخصت علیؑ كے ساتھ
سونا کچھ اِس طرح سے ہوا گھر علیؑ كے بعد
زینب کی زندگی میں نہ آئی کوئی خوشی
بگڑا کچھ اِس طرح سے مقدر علیؑ كے بعد
عباسؑ رو رہے تھے سنبھالنے ہوئے علم
گھر میں تھا ایک حشر کا منظر علیؑ كے بعد
یادِ علیؑ كے اشکوں نے دیکھا ہِلال عید
کیا عید کرتے آل پیمبرؐ علیؑ كے بعد
نوحے علیؑ كے پڑھتیں تھیں زینبؑ جگر فگر
حجرے میں روز شمع جلا کر علیؑ كے بعد
زینبؑ یہ کہہ كے سوئے مدینہ چلیں ظفر
ہَم کیا کریں گے کوفے میں رہ کر علیؑ كے بعد