May ye nahi kehti ke amari may bitha do
Efforts: بنتِ ذوالفقار علی

گھر سے جانے لگے شبیرؑ تو صغریؑ نے کہا
لے چلو مجھ کو بھی بیمار تمہیں دے گی دُعا
ہو جانا خفا راہ میں جو روئے گی صغریؑ
یاں نیند کب آتی ہے جو وہاں سوئے گی صغریؑ

بابا بابا
تنہائی سزا ہے مجھے ایسی سزا نہ دو
میں یہ نہیں کہتی عماری میں بٹھا دو
بابا بابا بابا
مجھے فضہؑ کی سواری میں بٹھا دو

١۔ سب بیٹھیں سواری پہ میں پیدل ہی چلوں گی
وعدہ ہے کسی کو کوئی تکلیف نہ دونگی 
بابا بابا
اماں سے میں ہرگز نہ کہوں گی کہ دوا دو

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری

٢۔ پلکوں سے میں سایہ علی اصغرؑ پہ کروں گی
اماں کی سواری سے بہت دور رہوں گی
بابا بابا
ہاں کہہ کے میری زیست کے کچھ روز بڑھا دو۔

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری

٣۔ میں پانی پلاؤں گی سواری کو تمہاری 
بابا بابا
جو کام کنیزوں کہ ہیں سب مجھ کو بتا دو
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری 

٤۔  سب نظریں چُراتے ہیں کوئی دَم  نہیں بھرتا
سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا
بابا بابا
توقیر میری یہ ہے تو مرنے کی دعا دو۔

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری

٥۔ کیا گزرے گی جب گھر سے چلے جایئں گے اکبر ع
کیسے مجھے ہر بات میں یاد آیئں گے اکبر ع
بابا بابا
کب آیئں گے لینے مجھے بھیا یہ بتا دو؟؟

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری

٦۔ ہاں اپنی محبت کا میں اظہار تو کر لوں 
ٹھہرو علی اصغر ع کو ذرا پیار تو کر لوں 
بابا بابا
ناقے سے جھلک ننھے مسافر کی دکھا دو

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری

٧۔ ریحان وہ بیمار یہ تھک ہار کہ بولی 
اے سرور و ریحان تمنا ہے میری 
بابا بابا
جاتے ہو تو تربت میری تم خود ہی بنا دو 

میں یہ نہیں کہتی عماری میں بٹھا دو
بابا محھے فضہ س کی سواری میں بٹھا دو