امير حسينؑ غريب حسينؑ
امير بھی ہے غريب بھی ہے (۲)
حسينؑ محبوبِ کبريا ہے
حسينؑ غربت کی انتہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے [۲]
حسينؑ مقصودِ کربلا ہے (۲)
حسينؑ مظلومِ کربلا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے (۲)
حسينؑ محبوبِ کبريا ہے
حسينؑ غربت کی انتہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
امير ايسا کفن کی سوغات جس کے روضے سے بَٹ رہی ہے (۲)
غريب ايسا کہ خود کو اَب تک کفن ميّسر نہيں ہوا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا کہ جس کا جھولا نبیؐ جھلائيں علیؑ جھلائيں (۲)
غريب ايسا کہ جس کے بچے کا بَن ميں جھولا بھی جل گيا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا کہ رسمِ پردہ داری چلی ہے اُسی کے گھر سے (۲)
غريب ايسا کہ شام و کوفہ ميں اُس کی ہمشير بے ردا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا سکينہؑ جيسی خدا نے بيٹی جسے عطا کی (۲)
غريب ايسا اُسی کے منہ پر کوئی طمانچے لگا رہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا کہ جس کے بابا کی ملکيت ميں ہے حوضِ کوثر (۲)
غريب ايسا کہ تين دن سے اُسی کو پانی نہيں ملا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا کہ جس کا بيٹا شبيہِ سردارِ اںبياؐ ہے (۲)
غريب ايسا کہ وہ ہی سينے پہ برچھی کھائے تڑپ رہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا خدا کا ديں جس کے دَم سے ہے آج تک سلامت (۲)
غريب ايسا کہ رَن ميں جس کا بدن سلامت نہيں رہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
امير ايسا کہ پتھروں کو بنا دے گوہر وہی تکلّم (۲)
غريب ايسا کہ پتھروں ميں اُسی کا لاشہ چھپا ہوا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
حسينؑ غريب حسينؑ
حسينؑ محبوبِ کبريا ہے
حسينؑ غربت کی انتہا ہے
امير بھی ہے غريب بھی ہے
امير حسينؑ غريب حسينؑ