بابا کو ہے رونے والی ایک سكینہ اک زہرہ
پہلو پر در اُن کے گرا تھا
اِن کو تمانچے لگتے تھے
اُن کے دَر پر آگ لگی تھی
اِنکا خیمہ جلتا تھا
بابا کو ہے
دونوں کو حاکم نے بلایا
دونوں ہی دربار گئیں
شرم و حیا نے اُن کو جتڑا
رسی میں تھا اِنکا گلا
بابا کو ہے رونے والی۔۔
بابا كے جانے كے بعد
چین سے اِک دن سو نا سکی
بیت الحُزْن میں وہ روتی تھی
یہ زندان میں روتی تھی
بابا کو ہے
دونوں جانب ہی غاصب تھے
ظالم تھے اور قاتل تھے
اُنسے کو فدک چینا گیا تھا
اِنکی بالیاں چینی تھی
بابا کو ہے
دونوں پر ہی ظلم ہوئے ہے
دنیا میں جانے كے بعد
ان کے کو تھا
یہ زندان میں قید رہی
بابا کو ہے
دونوں بابا کو پیاری تھی
دونوں ہی حساس بھی تھی
ان کے لیے زندان تھی دنیا
یہ زندان میں رہتی تھی
بابا کو ہے
دونوں نے معصوم شہادت
کو نزدیک سے دیکھا تھا
ان کو محسن یاد آتا تھا
اصغر ان کو یاد آیا
بابا کو ہے
ظہرہ سكینہ
کتنا ملتا جلتا تھا
میں نے کمر یہ سوچ كے آخر
اک ہی نوحہ لکھا تھا