تازیانے شمر کے اور نا توان سجادؑ ہے
پھر بھی لے کر چل رہا سب کارواں سجادؑ ہے
دین کا ہر علم حیدرؑ عصمت آل رسولؑ
اور قرآن خدا کا پاسباں سجادؑ ہے
اسقدر رونا لہو کا کرتا ہے ظاہر یہی
آل احمد کے مصائب کا قرآں سجادؑ ہے
جس طرح ہے اس زمیں پر آسماں سایہ فگن
اس طرح ہی دیں کے سر پر سائباں سجادؑ ہے
پاس رکھ کر کچھ کہا نہ قاتل اکبرؑ کو بھی
دیکھو کتنا ہی رحمدل مہرباں سجادؑ ہے
ختم ہو سکتی نہیں جو حشر تک بھی اے امیر
دردوغم کی ایک ایسی داستاں سجادؑ ہے