ميں بنت علی ھوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
ميں وارث تطہیرھوں
ناموس نبی ھوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
بازار سے دربار ميں لے آۓ ہو مجھ کو
چاہوں تو جلا سکتی ہوں خطبوں سے ميں تم کو
صابر کی بہن ھوں جو ميں خاموش کھڑی ھوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
افسوس کنيزی ميں اسے مانگ رہے ہو
تم جس کے غلاموں کی غلامی ميں رہے ہو
يہ ظلم نہ ہو گا کبھی ميں زندہ ابھی ہوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
تم اپنے پيامبرکو اگر ديکھنا چاہو
نيزے پہ جو يہ سر ہے اسے غور سے ديکھو
ہمشکل پيامبر ہے يہ ميں اس کی پھپھی ہوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
اور اس سے کٹھن وقت کيا ہو گا ميرے معبود
فضہ کے طرفدار ھيں دربار ميں موجود
ميں پشت پہ فضہ کے کھڑی ديکھ رہی ہوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
زہرا کو بھی دربار ميں تم نے تھا بلايا
دربار ميں ميں بھی ہوں مگر فرق ہے اتنا
پردے ميں تھی وہ اور ميں بے پردہ کھڑی ہوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
زنجيروں ميں جکڑا جو يہ بيمار کھڑا ہے
سجدہ اسے کعبے کی فصيلوں نے کيا ہے
منصب ميں بڑا وہ ہے ميں رشتے ميں بڑی ھوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
زندہ تھا تو ڈر ڈر کے ہميشہ ہی لڑے ہو
اب سر ہے تو ہونٹوں پہ چھڑی مار رہے ہو
تم کتنے بہادر ہو ميں يہ ديکھ رہی ھوں
اے شام کے لوگو ميں بنت علی ھوں
ہونے لگی دربار میں مشترکہ اذانيں
ريحان ادھر نام نبی گونجا فضا ميں
بی بی نے کہا فخر سے
ميں جيت گئ ھوں