ہائے زہراؑ تیری تنہائی ہے تنہائی علیؑ کی
ہائے غم میں تیرے جاتی رہی بینائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے تنہائی علیؑ کی
دربار میں ظالم کے گئی بنتِ پیعمبرؑ
کیا وقت تھا کچھ کر نہ سکا فاتح خیبر
ہائے ہنستے رہے غربت پہ تماشائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
پیغام ِ ولایت لیے گھر گھر گئی زہراؑ
شوہر کے لیے ڈھال تھی جب تک رہی زندہ
ہائے دُنیا کو بتاتی رہی سچائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
کہتے تھے علیؑ زہراؑ سے کیا حال ہے بی بی
اب ہم کو سلام آ کے بھی کرتا نہیں کوئی
ہائے ہے بعدِ نبی کیسی پزیرائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
در جلتا ہوا فاطمہ زہراؑ پہ گرایا
محسن کی شہادت کا سبب بن گئی دُنیا
ہائے تصویر مکمل نہیں ہو پائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
باہر کبھی حجرے میں کبھی قبرِ نبی پر
ہر رات کی تاریکی میں اولاد سے چھُپ کر
ہائے نکلی ہے تجھے ڈھونڈنے بینائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
زہراؑ کی جُدائی کو لگائے ہوئے دل سے
پچیس برس مولا نے چُپ چاپ گُزارے
ہائے اک حجرے میں کُل دُنیا سمٹ آئی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔۔
اُس وقت تکلم وہ زمانے کا ولی تھا
سجادؑ جو زینبؑ کو لیے شام سے گُزرا
ہائے اسلام کو خاموشی بچا لائی علیؑ کی
تیری تنہائی ہے۔۔۔۔