چہلم کے لئے بھیاآئی ہے تیری زینبؑ
اے میرے بھائی حسینؑ
بھائی میں آگئی ہو ں نانا کا دیں بچا کے
جائوں گی اب مدینہ چہلم تیرا مناکے
معلوم ہے یہ تم کو زینب اُجڑچکی ہے
لیکن تیری شہادت گھر گھر پہنچ چکی ہے
شاباش دو بہن کو بھیا گلے لگا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
بھیا تمہاری زینب اب وہ نہیں رہی ہے
پہچان لوگے مجھ کو حالت بدل گئی ہے
چلتی ہے یہ ضعیفہ بھائی قمر جھکا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
سجاد اور باقر دینگے گواہی میری
کھائے ہیں تازیانے بنتِ علی نے پھر بھی
لے آئی شامیوں سے وار ث تیرے بچاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
کیسے بتائو وںبھیا بازار میںجو گزری
کہتے تھے سب کہ مارو یہ ہے علی کی بیٹی
بابا کے بھی میںبدلے سب آئی ہوں چکا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
اُمت نے تجھ پہ بھائی رونے کہاں دیا ہے
جی بھر کے میں نے تیرا ماتم کہاں کیا ہے
روئے گی آج زینب فرشِ عزائ بچھاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
گھر جاکے کیا کروں گی پہلو میں ہی سُلا لو
اکبر سے کہکے مجھکو تربت کی جا دلادو
مالک ہو تم تو بھائی جاگیرِکربلا کے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔۔
یہ کہکے اے تکلم اُٹھی علی کی بیٹی
عباس کی لحد پر پہنچا دے مجھ کو کوئی
دکھلادوںباوفا کو رسی کے نیل جاکے
بھیا میں آگئی ہوں۔۔