ؑچادروں کا نام سُن کر رو پڑی بنتِ علی
شام کے دربار میں
وا حجابا کہہ رہی تھی سیدہ کی لاڈلی
شام کے دربار میں
کُرسیوں پر قاتلانِ شاہ تھے بیٹھے ہوئے
سایہءِ دیوار میں تھے سب حرم لیکن کھڑے
با وفا کو ڈھونڈتی تھی دُخترِ شیرِ جری
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
شمر دیکھا تو سکینہؑ سہم کر رونے لگی
شمر ہو جا دور فضہؑ چیخ کر کہنے لگی
خوف سے مُرجھا رہی ہے باغِ عصمت کی کلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
تشت میں بابا کے سر پر جب پڑی اسکی نظر
اپنے زخموں کی رہی نہ پھر سکینہؑ کو خبر
دوڑتی بابا کی جانب لاڈلی بیٹی چلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
کون ہے زینبؑ پکارا جس گھڑی فرعونِ شام
ؑہائے غربت کہہ کے اُٹھا تھا میرا قیدی امام
ؑاشک خوں کے رو رہا تھا شاہ کا بیٹا علی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
ظالموں کومل رہے تھے ظلم کرنے پر انعام
قہقہوں پر قہقہے تھے جام پرچلتے تھے جام
روتے روتے شام لوگو آل ِاحمدؑ کو ڈھلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
حکم حاکم نے سنایا مار دو بیمار کو
اِس جگہ ہی قتل کر دو قافلہ سالار کو
گِرپڑی عابدؑکے اوپر ہائے نازوں سے پلی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
جب علی اکبرؑ کے سر کو سامنے لایا گیا
ہو گئی بے ہوش ماں سے نہ سنبھل پایاگیا
ؑدخترانِ فاطمہؑ پڑھنے لگیں نادِ علی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔۔
زینبِ کبریٰؑ نے رو کر جس گھڑی خطبہ دیا
ہائے اے توقیر عابدؑ کا بدن تھا کانپتا
ہتھکڑی پر مارتا تھا سر ولی اِبنِ ولی
شام کے دربار میں
چادروں کا نام سُن کر۔۔۔۔