Ab bhi zindan se ronay ki sada aati hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

اب بھی زندان سے رونے کی صدا آتی ہے
جیسے تنہائی سے بچی کوئی گھبراتی ہے

(1)

اب بھی وہ قبر میں بابا کو یاد کرتی ہے
اور تنہائی میں ہر ایک لمحے مرتی ہے
اب بھی تاریکی تربت اسے رلاتی ہے

(2)

اب بھی روتی ہے وہ معصوم علی اصغر کو
یاد کرتی ہے وہ عباس و علی اکبر کو
اب بھی سجاد کی غربت اسے رلاتی ہے

(3)

اب بھی ہر ایک عزادار کو دیتی ہے دعا
ننھے سے ہاتھ اٹھا کر شہرِ مجلس میں صدا
چشم پر نم سے گرے اشکوں کو وہ اٹھاتی ہے

(4)

ہائے زندان میں تیرا بے بسی سے مرجانا
کسطرح بھولیں گے عابد وہ تیرا دفنانا
بھائی خوں روتا ہے جب یاد تیری آتی ہے

(5)

بالیں چھین لیں بہتا ہے لہو کانوں سے
آتی ہے اب بھی صدا رونے کی زندانوں سے
ہاتھ کانوں پر رکھے ہائے کون یہ چلاتی ہے

(6)

اب بھی کانوں سے لہو بہتا ہے ذاکر اُسکے
اب بھی گالوں کو چھپالیتی ہے وہ ہاتھوں سے
جب کبھی قبر میں وہ شمر(لعن) کی یاد آتی ہے