وہ خون رو کے یہ کہتا رہا زمانے سے
ردائیں چھینو نہ (2) لوگوں میرے گھرانے سے
سوال آب پہ سونے پہ اُس کے رونے پہ
وہ مارتے تھے (2) سكینہ کو ہر بہانے سے
بلائے کس طرح عباسؑ کو مدد کے لئے
وہ بےردا تھی (2) جھجھکتی رہی بلانے سے
سلایا جاتا تھا بے ہوش کر کے درّوں سے
جگایا جاتا تھا (2) عابدؑ کو تازیانوں سے
کچھ اِسطرح سرِ کرب و بلا وہ اجڑے تھے
کے ڈر رہے ہیں (2) ابھی تک وہ گھر بسانے سے
کہا یہ گنج شہیداں میں باپ کے سَر نے
مجھے سكینہؑ (2) بلاتی ہے قید خانے سے
ردائے ثانی زہراؑ میں ڈھل گیا اکبر
غبار اٹھا جو (2) لاشوں کے تھرتھرانے سے