ہائے سجادؑ نے غم کیسے اٹھائے ہوں گے
لوگ بازاروں میں زینبؑ کو جو لائے ہوں گے
یاد عباسؑ کی زینبؑ کو جو آتی ہوگی
لوگ خیام کو جب لوٹنے آئے ہونگے
نہ علمدار ؑ نہ قاسمؑ نہ علی اکبر ہی رہے
کیسے سیدانیوں نے پردے بنائے ہونگے
قبر میں لاشۂ شبرؑ بھی تڑپتا ہوگا
سہرے قاسمؑ نے جو ماتھے پہ سجائے ہونگے
بھیڑ بھی عام تھی اور سر پہ ردائیں بھی نہ تھیں
کیسے ناموس نے پھر چہرے چھپائے ہونگے
سوچو اخترذرا زینبؑ کا حشر کیا ہوگا
سر شہیدوں کے جو نیزوں پہ لگائے ہونگے