اے شام کے لوگوں میں بنتِ علی ہوں
میں وارثِ تطہیر ہوں ناموسِ نبی ہوں
بازار سے دربار میںلے آئے ہو مجھ کو
چاہوں تو جلا سکتی ہوں خطبوں سے میں تم کو
صابر کی بہن ہوں جو میں خاموش کھڑی ہو ں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
افسوس کنیزی میںاُسے مانگ رہے ہو
تم جس کے غلاموں کی غلامی میں رہے ہو
یہ ظلم نہ ہوگا کبھی میں زندہ ابھی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
زندہ تھا تو ڈرڈرکہ ہمیشہ ہی لڑے ہو
اب سر ہے تو ہونٹوںپہ چھڑی مار رہے ہو
تم کتنے بہادُر ہو میں یہ دیکھ رہی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
تم اپنے پیمبر کو اگر دیکھناچاہو
نیزے پہ جو یہ سر ہے اسے غور سے دیکھو
ہم شکلِ پیمبر ہے یہ میں اسکی پھپی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
اور اس سے کٹھن وقت کیا ہوگا میرے معبود
فضہ کے طرفدار ہیں دربار میں موجود
میں پشت پہ فضہ کے کھڑی دیکھ رہی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
زہرا کو بھی دربار میں تم نے تھا بُلایا
دربار میں میں بھی ہوں مگر فرق ہے اتنا
پردے میں تھی وہ اور میں بے پردہ کھڑی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
زنجیر میں جکڑا جو یہ بیمار کھڑا ہے
سجد ہ ا یسے کعبہ کی فصیلوںنے کیا ہے
منسب میں بڑا وہ ہے میں رشتے میں بڑی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔۔
ہونے لگیں دربار میں مشترکہ ازانیں
ریحان ادھر نامِ نبی گونجا فضامیں
بی بی نے کہا فخر سے میں جیت گئی ہوں
اے شام کے لوگوں۔۔