اصغر کو لے کہ گود میں کہتی ہے کربلا
یہ وہ علی ہے جسکو کبھی گھر نہیں ملا
چھہ ماہ کے غریب مسافر کو سونپ کے
کہنے لگے حسین یہ قبرِصغیر سے
رکھنا زراخیال میرے تشنہ کام کا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
مادر یہ بین کرتی تھی دل میں ہے یہ کسک
صغرا تمہاری گود سے آغوشِ قبر تک
اصغر کو موت نے کہیں رُکنے نہیں دیا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
ماںسوچتی تھی ڈھلتا ہے دن ہو رہی ہے شام
جھولے میںلوٹ آئے گا شاید وہ تشنہ کام
لیکن غضب ہوا کہ وہ جھولا بھی جل گیا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
گلیوں میں شہرِ کوفہ کی بازارِشام میں
شیریں کے گھر کبھی کبھی دربارِشام میں
مرنے کے بعد بھی علی اصغر سفر میںتھا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔۔
ننے سے سر کو یاس سے بس تکتے رہتے تھے
پھر خون رو کہ سیدِ سجاد کہتے تھے
میںوہ علی ہوں جس کا بھرا گھر اُجڑگیا
ہے جس کو۔۔۔یہ وہ علی
جانے لگا وطن جو غریبوں کا کارواں
مڑمڑ کہ کہتی جاتی تھی اک خالی گود ماں
رکھیو سنبھال کر اسے اے ارضِ نینوا
یہ وہ علی ہے جس کو۔۔