بابا بابا حسینؑ
شام غریباں الاماں
پھیلا ہوا ہر سُو دھواں
نوحہ کناں سیدانیاں
غش میں پڑا اِک ناتواں
پیاسی سكینہؑ نوحہ خواں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
جلے ہوئے خیمے اِدھر
لاشے پڑپتے تھے اُدھر
کرب و بلا کی خاک پر
بولی سكینہؑ رکھ كے سر
بابا سنو میری فغان
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
باغِ نبیؐ تاراج ہے
شعلوں کا ہر سُو راج ہے
ہائے کفن كے واسطے
باباؑ میرا محتاج ہے
کتنا بڑا ہے امتحاں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
شامِ مصائب آ گئی
آندھی غموں کی چھا گئی
میں جانبِ دریا گئی
لاشِ چچاؑ تھرا گئی
کانوں سے خوں دیکھا رواں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
رخسار نیلے ہو گئے
اتنے تمانچے ہیں لگے
باباؑ خدا کے واسطے
مجھ کو لگا لو سینے سے
دُکھتی ہیں میری پسلیاں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
تپتی زمیں جلتی ہوا
اے مقتلِ کرب و بلا
اِک دوپھر میں کیا ہوا
لُوٹا گیا کنبہ میرا
چادر نہ سر پہ سائباں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
اک ریسماں بارہ گلے
کچھ اِس طرح باندھے گئے
ہر آتی جاتی سانس بھی
جیسے کوئی خنجر چلے
نازک گلے میں ریسماں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
رسی میں باباؑ بندھ گئے
تازہ ستم ہم کو ہے
زنجیر لائے اشقیا
بیمار عابدؑ كے لیے
پہنا رہے ہیں بیڑیاں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ
کیا سرور و ریحان ہَم
بتلائیں رودادِ ستم
نازک سے دِل کی رنج و غم
کہتی رہی وہ دم بدم
اب تم کہاں اور ہَم کہاں
بابا بابا حسینؑ
سكینہؑ کی آتی تھی صدا
بابا بابا حسینؑ