میت خدا کے شیر کی سوئے نجف چلی
ہر سمت ایک شور ہے مولا علی علی
میت خدا کے شیر
شہزادے شہزادیاں بابا کو روتے ہیں
حق کے ولی کو خلق کے مولا کو روتے ہیں
زہرا کے گھر میں کیسی مصیبت یہ آگئی
میت خدا کے شیر
دیوار و در ہے نوحہ کنا شہہ سوگوار
سر کو پٹختے جاتے ہیں مولا کے سوگوار
اک تیغ زہر بار میں دنیا اجاڑی
میت خدا کے شیر
مظلومیت کا حق کا مددگار مر گیا
بیوائوں کا یتیموں کا غمخوار مر گیا
مشکل کشائ جدا ہوا مشکل یہ آگئی
میت خدا کے شیر
زینب کی نظری بابا کو پائیں گی اب کہاں
کلثوم روتی جاتی ہے لے لے کے ہچکیاں
بابا کی یاد آتی ہے ہر وقت ہر گھڑی
میت خدا کے شیر
نوسو رہواروں مہر ولایت نے شام کی
میت اٹھائو کاندھوں پہ زخمی امام کی
کہتے چلو یہاں سے نجف تک علی علی
میت خدا کے شیر