ننھے اصغرؑ آ جاؤ اے میرے دلبر آ جاؤ
دیر سے مادر ڈھونڈ رہی ہے
راہ تمہاری دیکھ رہی ہے
دودھ پلا کر لوری سُناؤں
رن سے پلٹ کر آ جاؤ
بعد تیرے اب کوئی نہیں ہے
ماں کا سہارا کوئی نہیں ہے
رن سے پلٹ کر پانی پی کر
فاتح بن کر آ جاؤ
قاسمِؑ نوشاہ پاس نہیں ہے
جینے کی کوئی آس نہیں ہے
سینے پہ برچھی کھا کے تڑپ کر
مر گئے اکبرؑ آ جاؤ
بالی سکینہؑ در پہ کھڑی ہے
راہ چچا کی دیکھ رہی ہے
مشک چھدا کر مر گئے عمّو
بیکس و مضطر آ جاؤ
رن میں اکیلے شاہؑ کھڑے ہیں
چاروں طرف سب دشمنِ دیں ہیں
تیروں سے چھلنی ہو گیا ہئے ہئے
جسمِ مطہّر آ جاؤ
عصر کا یہ ہنگام ہے بیٹا
حشر سے پہلے حشر یہ ہو گا
خنجر اٹھا کرسینہءِ شہؑ پر
ہو گا ستمگر آ جاؤ
ہائے غضب کیا ظلم ہوا ہے
سینہءِ شہؑ پر شمر چڑھا ہے
سجدہءِ آخر میں اب ہو گا
تن سے جدا سر آ جاؤ
سویا رضا تھا جانِ حزیں سے
آئی صدا کربل کی زمیں سے
ثانئِ حامد ذاکرِ سرورؑ
بیکس و مضطر آ جاؤ